نئی دہلی یکم مارچ (ایس او نیوز/ آئی این ایس ا نڈیا ) وزیراعظم نریندر مودی اور ملک کے مہمان اُردن کے شاہ عبداللہ ٹو نے اس بات کا اعادہ کیا کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ کا مطلب اسلام کے خلاف یا کسی مذہب کے خلاف جنگ نہیں ہے، بلکہ یہ بے قصور نوجوانوں کو بھڑکانے والوں کے خلاف جنگ ہے۔ آج جمعرات کو وگیان بھون میں منعقدہ ایک پروگرام میں اردن کے شاہ کی موجودگی میں مودی عمومی خطاب کررہے تھے۔
اسلامی ہیر ٹیج کے معاملے پر تقریر کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ آپ کا وطن اور ہمارا دوست ملک اردن تاریخ کی کتابوں اور مذہب کے نصوص میں ایک انمٹ نام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردن ایک ایسی مقدس سرزمین پر آباد ہے جہاں سے خدا کا پیغام پیغمبروں اور سنتوں کی آواز بن کر دنیا بھر میں بلند ہوا ۔ مودی نے کہا کہ دنیا بھر میں مذہب اور نظریات بھارت کی مٹی میں ترقی کی منازل طے کی ہیں۔یہاں کی آب و ہوامیں انہوں نے زندگی پائی، سانس لی۔ چاہے وہ 2500 سال پہلے گوتم بودھ ہو ں یا پچھلی صدی میں مہاتما گاندھی۔ امن اور محبت کے پیغام کی خوشبو بھارت کے چمن سے ساری دنیا میں پھیلی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہاں سے ہندوستان کے قدیم فلسفہ اور صوفیوں کے محبت اور انسانیت کی مشترکہ روایت نے انسانیت کے بنیادی اتحاد کا پیغام دیا ہے۔انسانیت کے لزوم کے اس احساس نے بھارت کو ایک خاندان کی طرح پیدا کیا ، بھارت نے ساری دنیا کو ایک خاندان مان کر اس کے ساتھ اپنی شناخت بنائی ہے۔نریندر مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہر ہندوستانی کو یہاں کے متنوع نظریات پر فخر ہے۔ وہ کوئی بھی زبان بولتا ہو، چاہے وہ مندر میں دیا جلاتا ہو یا مسجد میں سجدہ گزار ہو، خواہ وہ چرچ میں منت گزار ہو یا پھر گرو دؤار میں بھکتی کے گیت گاتا ہو ۔
مودی نے کہاکہ دنیا کی سب سے بڑے جمہور ی ملک بھارت میں’ جمہوریت ’ایک سیاسی نظام ہی نہیں؛ بلکہ مساوات، تنوع اور ہم آہنگی کا بنیادی محور بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ طاقت ہے جس کے ذریعہ ہر ہندوستانی کے دل میں ملک کے شاندار ماضی کے تئیں عقیدت ہے ، ان کو حال پر یقین اور مستقبل کے تئیں وہ پر اعتمادہیں۔ مودی نے کہا کہ ہماری وراثت اور قیمت، ہمارے مذہبوں کا پیغام اصول اور طاقت ہے جن سے ہم تشدد اور دہشت گردی جیسے چیلنجز سے بہ آسانی نمٹ سکتے ہیں ۔ انسانیت کے خلاف درندگی انجام دینے والے شاید یہ نہیں سمجھتے کہ نقصان اس مذہب کا ہوتا ہے جس کی حمایت کی آڑ میں وہ درندگی کو انجام دیتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں ہماری یہ کوشش ہے کہ سب کی ترقی کے لیے سب کوساتھ لے کرچلیں؛کیونکہ پورے ملک کی تقدیرہر شہری کی ترقی کے ساتھ وابستہ ہے ؛کیونکہ ملک کی خوش حالی سے ہر ایک کی خوش حالی پیدا ہوتی ہے ۔